September 26, 2020

آخری سوال اور کڑوا گھونٹ؟

Charcha for Social Acceptance

آخری سوال اور کڑوا گھونٹ؟

مجھے ہمیشہ سے اچھی کافی پینے کا شوق اپنی ماں سے ملا اور میں بہت اہتمام سے تیار ہو کر شہر کے اچھے کافی بار جا کر اپنا یہ ٹائم گزارتا تھا- وہ بھی ایک ایسا ہی دن تھا- میں شہر کے مہنگے کافی بار میں اپنا آرڈر دے کر موبائل میں مصروف تھا جب میں نے ایک صنفِ نازک کی مدھر بھری آواز سنی
ایکسیوزمی۔۔۔”کیا میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں“؟
میرے اردگرد کا ماحول کافی خاموشں تھا تو مجھے اپنی نظر موبائل سے اُٹھا کر اوپر دیکھنے میں دیر نہیں لگی کہ مخا طب صنف نازک کون صاحبہ ہیں؟ کہ آیا مجھے ہی مخا طب کیا گیا ہے؟
اُس کو اجازت دینے سے پہلے ، میری نگاہ میں ایک سوال تھا کہ جب میں آپ کو جانتا ہی نہیں تو ؟ شاید وہ میرا سوال پڑھ چکی تھی۔

“جی میں آپ کو اور آپ مجھے نہیں جانتے۔”
اُسں نے بہت سکون سے جواب دیا اور سامنے والی کرسی گھسیٹ کر، میری اجازت کا انتظار کئے بغیر بیٹھ گئی- میں ابھی تک حیرت میں ہی تھا کہ اُسکے ا گلے سوال نے مجھے اور چونکا دیا- ”آپ شاید ایک رائٹر ہیں“؟
میرے موٹے عدسوں والے گلاسسز سے ، اور ایک پرُانی موٹی پیلے صفحوں والی ڈائری سے ، شاید اُ س نے اندازہ لگا یا ہو گا کہ میں ایک ” مصنف “ہوں۔
اُس نے میرے اِقرار یا اِ نکار سے پہلے ہی بولنا شروع کر دیا- ایسا لگ ر ہا تھا ، کہ وہ بہت جلدی میں ہو۔”میں آج آپ کے پاس ایک سوال چھوڑ کر جا رہی ہوں“ – وہ جلدی سے بولی ”آپ کا اور میرا معا شرہ ایک ایسی عورت کو تو ”طوائف“ کا نا م دے دیتا ہے ، جو دھندا کر تی ہو, جو ہیرا منڈی میں اپنا کوٹھا چلاتی ہو“۔

وہ میری آنکھوں میں دیکھ کر بات کر رہی تھی لیکن اُس نے ایک وقفے کے بعد دوبارہ بولنا شروع کیا ”جو عورت شہر کے پوش علاقے میں ، اپنا رہن سہن ، عا م لوگوں کی طرح کر کے ،اپنے ما تھے پر طلاق یا بیوگی کا ٹیکہ سجا کر وہ ہی دھندہ پوش علاقے میں کر رہی ہو جو ایک کوٹھے والی عورت اپنے کوٹھے پر کرتی ہو اُس عورت کو آپ ،ہم کیا نا م دیں گے“؟ ”شریف طوائف؟“ اُس کے لہجے میں سوال تھا۔

وہ مجھ سے پوچھ ر ہی تھی۔ میں ہکا بکا اس کی شکل دیکھ رہا تھا کہ یہ کیسے سوال کر رہی ہے؟
وہ کچھ دیر کے لیے پھر خاموش ہوئی کیونکہ ویئڑر کافی رکھنے آیا تھا- میں اُس کے سوالوں میں اِ تنا محو تھا کہ ویئڑر کب آیا اور کب گیا مجھے معلوم ہی نہیں- پھر وہ جانے کے لیے کرسی سے اُ ٹھ کھڑی ہوئی- ”ایک سوال اور شامل کر لیں“- وہ جاتے جاتے واپس مڑی- وہ بغیر سانس لیے میرے کسی بھی سوال و جواب کا انتظار کیے بغیر بولے جا رہی تھی-میں نے بھی اُسے بولنے سے نہیں ٹوکا
وہ جلدی جلدی بول رہی تھی- شا ید اپنے دل کی سا ری با تیں آج وہ کر دینا چا ہتی تھی- تب اُس کا مو با ئل بو ل پڑا- وہ ایک خوبصورت عورت تھی، اور اچھے گھر کی لگ رہی تھی- میرے ذہن میں بہت سا رے سولات نے سر اُٹھایا تھا اور میں انتظار میں تھا کہ جیسے وہ خاموش ہو گی میں اپنے سارے سوالا ت اُس کے سامنے رکھوں گا۔
اُس نے موبائل کو آف کر کے اپنے قیمتی ہینڈ بیگ میں ڈالا اور پھر سے میری طرف متوجہ ہوئی۔ “جی،میرا ایک سوال اور بھی ہے”- اُس نے پھر سے بولنا شروع کیا- ”جی آپ بولیں میں سن رہا ہو ں“- میں نے اُسے دھیمے سے جواب دیا- اور حقیقت بھی یہ ہی تھی، میں صرف اُس کو ہی تو سن ر ہا تھا- ”اپنے اردگرد سے بے خبر ہو کرآپ ،ہم، اور یہ معاشرہ اُس ” مرد “ کو کیا نا م دیں گے جو اپنے گھر کی شریف عورت کو دھوکہ دے کر اُیسی”عورتوں“ کے سا تھ وقت گزارتے ہیں“ ؟
اس سوا ل کے بعد وہ وہاں سے چلی گئی- اُس کے لہجے میں لفظ ” ایسے مرد“ کے لیے نفر ت اُبل رہی تھی اور میرے سارے سوالات میرے اندر ہی دفن ہو گئے- وہ جا چکی تھی۔
وہ خو د کو ن تھی- ایک بہت بڑا سوالیہ نشان میرے سامنے تھا- میں سوچوں کے سمندرمیں غرق تھا۔

اُ س کا۔۔۔۔
اُس کا آخری سوال میری کافی کے پہلے گھونٹ کی طرح ، بہت زیادہ کڑوا تھا اُس کی آواز میرے کانوں میں گونج رہی تھی کہ آپ، ہم ، اور یہ معاشرہ ” اُس مرد“ کو کیا نام دیں گے؟؟؟؟؟؟

سُحر ریئسں دُرّانِی

Disclaimer: The views, thoughts, and opinions expressed in the text belong solely to the author, and not necessarily to Charcha’s founders, editors, or any individual from the content writing or reporting team.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may have missed