September 26, 2020

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

Charcha for Wasif Ali Wasif

حضرت واصف علی واصف رح کی ہمہ جھت شحصیت سے کون نہیں واقف ۔آپ میرے بھی روحانی مرشد ھیں ۔میں اپنے آپ کو اس قابل نہی سمجھتی کے ان کے بارے میں کچھ لکھوں ،مگر میں جب بھی قلم اٹھا تی ھوں تو میرا دل چاھتا ھے میں ان کے بارے میں اپنی عقیدت کا اظہار کروں ۔میری یہ تحریر فنی تقاضوں کو پورا نہی کرتی اور نہ ھی میں اس عاشق رسول کے شایان شان کچھ لکھ سکتی ہوں۔مگر اس تحریر سے شاید بابا جی خضور کی میرے دل میں عقیدت کا اظہار ھو سکے ۔ آپ ایک استاد، صوفی دانشور،شاعر تھے ۔اللہ تعالی نے آپ کو علم ودانش اور حکمت کے وصف بچپن سےمالا مال کر رکھا تھا ۔آپ کو قلم اور کلام دونوں کمالات  سے نوازا گیا ۔

عجز وانکساری ،سادگی ،مخلوق خدا سے محبت ،تواضع،نرمی اور تقریر وتحریر میں کمال ان کی شخصیت کے نمایاں پہلو ھیں ۔اپ موضوع بیان پر پورا عبور ان کی تقاریر میں بدرجہ اتم نظر آتا ھے روحانی موضوعات کو شاید اتنے آسان اور عام فہم انداذ میں شاید ھی کوی بیان کر سکتا ھو ۔آپ نے فرمایا “اگر اللہُ تعالیٰ سے مانگنا ھو تو اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت مانگو اور اگر اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مانگنا ھو تو اللہ کی یاد مانگو”- و

نا امیدی اور مایوسی کے اس دور میں آپ کے فرمودات امید کا مینار ھیں ۔عشق رسول ان کی تحریر اور تقریر کی روح ھے آپ کے نعتیہ کلام کی اثر انگیزی سے انکار نا ممکن ھے ۔ ان کا انتقال 1993 میں ھوا اس وقت تک اپنے دور کی جن ادبی اور مزہبی شحصیات نے ان سے ملاقات کا شرف حاصل کیا ان کے لیے یہ اعزاز کی بات ھے ۔ان کے مداحوں میں اشفاق احمد اور قاسم علی شاہ کا نام سر فہرست ھے۔

میری ذند گی میں بابا صاحب کی حیثیت ولی اللہ کی ھے ۔زند گی کی بہت سی مشکلات میں مجھے ان کی تقاریر سے رہنمای ملی ۔آپ کی شہرہ آفاق تصانیف میں “قطرہ قطرہ قلزم” ،”دل دریا سمندر”, “شب چراغ”,”کرن کرن سورج” شامل ہیں
۔پاکستان کے بارے میں آپ بہت پرامید تھے آپ فرماتے ھیں کہ” ۔یہ ملک آباد رہنے کے لئے بنا ہے اور یہ ملک آباد رہے گا ۔ آپ لوگ قطعاً مایوس نہ ہوں ۔ مایوسی کی کوئی بات نہیں ہے ، آپ لوگوں کے پاس بہترین قسم کے فقیر ، درویش ، بزرگ ، صاحبانِ تدبیر اور بڑے بڑے لوگ موجود ہیں اور موجود رہیں گے اور اس ملک کو ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا جس نے یہ ملک بنایا ہے وہی اس کا محافظ ہے ۔ آپ یہی اسمِ اعظم جاری رکھو کہ جس نے بنایا ہے وہی اس کا محافظ ہے ۔اس ملک کا بنانے والا اللّہ ہے اس نے اپنی مرضی سے بنایا اور اپنے کام کے لئے بنایا ہے وہی اس کا محافظ ہے اور وہی اسے قائم رکھے گا ۔اور یہ قائم رہے گا”۔
آیندہ بھی میں اس مرد قلندر کےبارےمیں لکھوں گی ۔اس تحریر کا ایک مقصد آج کی نئ نسل کو ان کی شحصیت سے رہنمای کا مشورہ دینا بھی ہے۔ہماری نوجوان نسل کو ان کی تعلیمات سے استفادہ حاصل کرنے کی ضرورت ھے ۔بلاشبہ آپ کو اپنے سوالوں کے جواب ملیں گے۔

رب العالمین ہم سب کو اپنی امان میں رکھے آمین۔

6 thoughts on “حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

  1. What a great poet
    “Wasif Ali Wasif”
    Our generation needs to read his novels as we are far away from our religion must say I literally feel very innovative& comfortable while I read this article
    I must say he was jem to our country WASIF ALI WASIF …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may have missed