September 26, 2020

-بات چلی تو چلتی ہی گئی

Charcha for Sad Urdu Poetry

بات چلی تو چلتی ہی گئی

بات کہیں بھی تھم نہ سکی 

رکتی بھی کیسے؟ تھمتی کیسے؟

نہ تمہارا دل تھا 

نہ پھر ہمارا دل رہا  

کیسے روک سکتے تھے، ہم اُن لمحوں کو

 جو ریت کے زروں کی طرح ہاتھوں سے نکلے جا رہے تھے

کیسے روکتے؟ 

،اور پھر سب بکھر گیا

ٹوٹ گیا

کر ِچی کرچیِ دل کے ساتھ سب بکھر گیا

موتی کی لڑی بھی ٹوٹ گئی

کب سے ہم نے تھامی ہوئی تھی

جسکو  تھامے، تھامے ، ہم نا جانے کیسے تھک گئے

تو پھر ہاتھوں سے جو پھسلی، تو پھسلتی ہی گئی

بات چلی تو چلتی ہی گئی

با ت کہیں بھی تھم نہ سکی

سَحر 

2 thoughts on “-بات چلی تو چلتی ہی گئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may have missed