October 24, 2020

ریاستِ مدینہ

Charcha for Riyasat-e-Madina

میں ہمیشہ مرد کی برتری کی قائل رہی ہوں ۔ مرد عورت کا مخافظ اور گھر کا سر براہ ہے۔ لیکن یہی مرد اگر درندگی پر اتر آے تو جنگل کے جانور بھی شرما جائیں ۔

گجر پورہ حادثے سے پہلے بھی ایسے سینکڑوں درندگی کے واقعات ہیں جو روح کو دھلا دیتے ہیں۔ حوا کی بیٹی کی عصمت دری کی ہزاروں داستانیں ہیں جو مھزب معاشرے کے منہ پر زوردار طمانچہ ہیں ۔ایک عورت بچوں کے ساتھ موٹروے پر نکلتی ہے۔ موٹروے جہاں پر سفر کرنے کو مخفوظ ترین سفر سمجھا جاتا ہے، وہاں پر اس عورت کے ساتھ خوفناک حادثہ پیش آجاتا ہے۔ موٹروے پولیس کا رویہ ملاحضہ فرمائیں، عورت کو یہ کہ کر کہ یہ ہمارا علاقہ نہیں فون بند کر دیا جاتا ہے ۔سی-سی-پی-اوکا بیان سن کر ان کے زہنی معیار کا اندازہ لگا لیں کہ خاتون کو جی ٹی روڈ سے سفر کرنا چاہیے تھا۔ کوئی صاحب تبصرہ فرماتے ہیں کہ محرم کے بغیر سفر نہیں کرنا چاہیے تھا۔ کچھ کا خیال ہے کہ اتنی رات سفر نہیں کرنا چاہیے تھا ۔

ہو سکتا ہے جن کو مخافظ سمجھ کر مدد کے لیے بلایا گیا مجرم انہی میں سےکوئی ہو ۔سوال اس معاشرے اور متعلقہ اداروں سے ہے کہ صاحب آپ کی رائے میں یہ عورت جتنی بھی قصوروار سہی مگر اس کاجرم اتنا بڑا نھیں کہ اس کو اس قدر خوفناک سزا ملتی ۔گاڑی کسی خرابی کی وجہ سے بھی رک سکتی ہے ۔ہو سکتا ہے کسی عورت کا محرم ہی نہ ہو- گھر میں کوئی مرد نہ ہو تو کیا ایسی عورت گھر سے باہر نہیں نکلے گی۔ کیا اکیلی عورت گھر سے باہر نکلے گی تو اسی طرح بربریت کا نشانہ بنے گی؟ گھر میں رہنے والی عورت کیا محفوظ ہے؟ نہ جانے کتنی عورتیں اور بچیاں گھر کے اندر اپنے قریبی رشتہ داروں اور اسی طرح کے وحشی درندوں کے ہاتھوں ہر روز ذلت اور بربریت کا سامنا کرتی ہیں ۔

اس طرح کے احمقانہ تبصرے سن کر بہت دکھ ہوا- ہم کس معاشرے میں رہ رہے ہیں۔ کل کوئی بھی اس طرح کے واقعے کا شکار ہو سکتا ہے- ہم ایک کے بعد ایک کا انتظار کرتے رہیں گے ۔ ہم خوف کے ساتھ زندگی گزاریں گے ۔ ہم اپنی بچیوں کو کس طرح تعلیمی اداروں میں بھیجیں گے؟ کیا ہم سب اپنے ساتھ اسلحہ اور ڈنڈا اٹھا کر چلیں گے؟ اگر ایسا ہی ہے، اگرسڑکوں پر ہی انصاف ہو گا تو سی-سی-پی-او جیسے افسران کو گھر بٹھا دیں۔ عدالتیں بند کر دیں، جہاں سیاستدانوں کو ریلیف تو مل سکتا ہے مگر عام آدمی کو انصاف نہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم بحثیت قوم ناکام ہو چکے ہیں ۔اب نہیں تو آخر کب زیادتی کے مجرموں کو سرِعام سزا ملے گی؟ اگر کسی ایک کو بھی سزا مل جاتی تو دوبارہ یہ واقعات نہ ہوتے- ہر روز دو تین ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جن میں ننھے بچے بچیاں کسی نہ کسی درندے کا شکار بنتے ہیں۔ دو سال کی بچی سے لے کرقبر میں پڑی مردہ عورت تک کوئی بھی مخفوظ نہیں۔

ہمارا مسئلہ قانون سازی نہیں بلکہ قانون پر عملدرآمد ہے- خواتین سے متعلق جرائم  کی سماعت کے لیے عدالتوں کا قیام  عمل میں لایا گیا، مختلف این جی اوز نے نئے قوانین کے نفاذ کے لیے کوششیں کیں- بہت سے قوانین پاس ہوئے مگر نتیجہ صفر اور اس کی وجہ قوانین پر عمل درآمد نہ ہونا ہے ۔مجرم پکڑا جاتا ہے مگر کبھی اثرو رسوخ کی وجہ سے اور کبھی رشوت دے کر بچ جاتا ہے اور نیا شکار ڈھونڈ لیتا ہے ۔جب تک متعلقہ ادارے مجرم کو عبرتناک سزا نہیں ھیں دیں گے ۔معاشرہ جنگل بن جاےگا۔مجرم پکڑے بھی جائینگے توکوئی فائدہ نہیں- سخت سے سخت سزاوں کا نفاذ ہی اس کینسر کا علاج ہے- عمران خان صاحب ہمیں آپ سے کوئی امید نھیں، بس آپ مہربانی فرما کر “ریاست مدینہ” کا نام لینا چھوڑ دیں ۔کسی نئے واقعے کے رونما ہونے تک ہم اس حادثے کو بھول جائیں گے۔ سچ ہے “جیسی عوام ویسی حکومت “

10 thoughts on “ریاستِ مدینہ

  1. Yes your right .. yh mulk kaisy
    ” Riyasat e Medina ” bn skta h? yahan to na chori krny waly k hath katy jaty hain na haram khany waly ko saza di jati …Sunnat puri sirf 4 shadian krny se nhi hoti …humary nabi pak
    Hazrat Muhammad (SAW) ki zindage se r b bht kch sekhna chahye…
    apny haq k lie awaz uthaye!!!!
    Zalim k agy saar na jhukny dain!!!…

  2. Speechless!
    Kuch b ni hoga as usual 4 din media bhonkay ga 8 din hum r phir sab apni life me bz ho k bhool jayen gay jiska loss hua ha sirf usko hi hamesha yad rhy ga ye system kbi ni badlay ga phir chahay isko kisi b RIYASAT ka nam p rakhlo.

  3. ریاست مدینہ کا مقدس نام لینے والوں کو شرم آنی چاہیے ایک کے بعد ایک سانحہ ہمارا منتظر ہوتا ہے اور ہم لوگ بے حسی کی انتہا پر پہنچ چکے ہیں بحیثیت مجموعی ہم لوگ انتہا درجے کے بزدل ثابت ہوئے ہیں اپنے حقوق کے لیے نہیں بولتے ہمارا حال خاکم بدہن اس سے زیادہ برا ہونے والا ہے جب تک ہم لوگ اپنے حقوق کے لیے نہیں نکلیں گے ہمارے ساتھ ایسے سانحات رونما ہوتے رہیں گے

  4. ڈاکٹر عافیہ صدیقی،افشاں لطیف اور اس جیسی کئی
    عورتیں سامراج کے ظلم برداشت کر رہی ہیں ہمیں ان کی آواز بننا ہوگا ورنہ ہماری داستاں بہی نہ ہو گی داستانوں میں کاشانہ کی مظلوم بچیوں کے ساتھ جو ظلم ہوا ہے اس پر ارباب اختیار کی بے حسی پر دل خون کے آنسو روتا ہے

  5. 2018 میں جب پنجاب میں شوباز کی حکومت تھی اور قصور میں زینب کاریپ اور قتل ہواتھا جب پریس کانفرنس میں شوباز اور مرزئی رانا باندر
    نے ذینب کے باپ کامائیک بند کرکے اُس کی بے بسی پر قہقہے لگائے تھے تب کسی پٹواری کو شرم نہیں آئی۔ایسے  بےغیرتوں کو ریاست مدینہ
    کے دعوے داروں پر تنقید کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے ۔
    2014 کے سانحہ ماڈل ٹاون میں شوباز کے آڈر پر پولیس نے دن دہاڑے 14 بچوں اور حاملہ عورتوں کو گولیاں مارکر کے قتل کردیا۔تب ریاستِ مدینہ پر تنقید کرنے والوں کو  خود شرم کیوں نہ آئی؟
     دودھ میں پانی یہ قوم خود ملاتی ہے۔ناپ تول میں وزن کم تولتی ہے۔اور ریاستِ مدینہ عمران خان سے چاہیے۔
    آج چور شریف اور اسکا پورا چور خاندان دنیا میں ہر جگہ  ذلیل ہورہاہے اورNRO کے لیئے آرمی چیف کے
    پاوں پکڑ کر معافیاں مانگ رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may have missed