October 24, 2020

خلائی مخلوق

Charcha for Urdu Literature

مجھے اس ہوٹل میں کام کرتے دو سال ہو چکے تھے- ہر ویک اینڈ پر اُس عورت کو میں نے اکیلے ڈنر کرتے دیکھا- یہ ایک  5 سٹار ہوٹل تھا- حیرت کی بات اس لیے تھی کہ ا ُس عورت کے سا تھ کبھی کوئی نہیں ہوتا تھا اور اِس ہوٹل میں معمول کے مطابق کپلز آتے تھے،  آفیشلز میٹنگز ہوتی تھیں-  ہاں؛  کچھ لوگ اکیلے بھی آتے تھے- لیکن جس روٹین سے وہ لیڈی تشریف لاتی تھیں، وہ کسی کے بھی نوٹس میں آ سکتی تھی

 میں نے آج سوچ لیا تھا کہ آج اُس پرُ اسرار لیڈی سے بات کیے بغیر ،اُ نکو جانے نہیں دونگی- اور پھرمجھے ٹائم ملِ ہی گیا- جیسے ہی اُس لیڈی نے اُپنا ڈنر ختم کیا، میں اُسی ٹیبل پر اُس لیڈی کےسامنے کھڑی تھی

 “ایکسیومی میڈم: میں بہت ڈرتے ہوئے لیڈی سے مخاطب ہوئی”

اِس میں کوئی شک نہیں تھا، کہ وہ دور سے تو ایک باوقار اور مضبوط عورت دِکھائی دیتی تھی- لیکن نزدیک سے دیکھنے پر ا ُن کی پرسنلیٹی کی جو کشش مجھے نظر آئی وہ آج سے پہلے میں نے کسی میں بھی نہیں دیکھی تھی-  وہ واقعی میں ایک ”خود“ اعتماد اور ”پرُ کشش“ عورت تھی

آ نکھوں میں ایک گہری سوچ کی لکیر تھی،جو نزدیک سے اُن کی آنکھوں میں دیکھنے سے نظر آئی-  چہرے پر ایک صبہیح مسکراہٹ

جی“ -اُسی صباحت سے میری طرف دیکھ کر بولی”

میں یہاں، آپ کے ساتھ بیٹھ سکتی ہوں؟“- میں نے ذرا جھجکتے ہوۓ اُس لیڈی سے پوچھا”

اُس نے مسکراتے ہوۓ اجازت دے دی- اُس کی مسکراہٹ بہت گہری تھی اور چہرے پر ایک صباحت- آج کل بہت کم لوگوں میں ایسی صباحت نظر آتی ہے

میں آج یک ٹک صرف اُس عورت کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی-  ا ُسکے ساتھ بیٹھ کر مجھے احساس ہوا کہ وہ ایک عام عورت نہیں ہے- اُس کی شخصیت میں عجیب سا سحر تھا ،ایک کشش تھی کہ جو آج ساتھ بیٹھ کر محسوس ہوئی- میرے سارے سوال ایک دم سے کہیں غائب ہوگئے- میرا وجود اُسکے سحر میں گرفتار ہو گیا

جی ,بیٹا کیا بات ہے؟“ وہ دھیمے سے لہجے میں مخاطب ہوئی”

میں وہ –  میں ؛ ایک دم سے اُسکے مخاطب کرنے پر، میں   بوکھلا سی گئی اور میں اُسکے سحر سے نکل آئی-” میں، آ پ سے پوچھنا چاہتی تھی کہ آپ یہاں ہمیشہ اکیلے ڈنر کرنے آتی ہیں“- میں کچھ دیر کے لیے خاموش ہوئی
“اور آپ کی فیملی؟ ؟؟؟”

میں پورا سوال کرنے کی جرات ہی ناں کر سکی کیونکہ وہ میری آنکھوں میں ہی دیکھ رہی تھیں-اُسکی آنکھوں میں  اِتنی خاموشی تھی کہ میں نے خاموش ہو کر ،اپنے لب اپنے دانتوں کے نیچے دبا لیے- ”میری فیملی؛ میں میرے دو بچے ہیں- ما شااللہ دونوں ہی اس ملک سے باہر اپنی اپنی پروفیشنل لایئنز میں کامیاب ہیں-بیٹی ہارٹ سرجن ہے- بیٹا آئی سپیشلسٹ ہے-  میں اُن دونو ں کے پاس آتی جاتی رہتی ہوں“-  نہایت مناسب الفاظ میں جواب دے کر وہ خاموش ہو گئی- اُسکے بولنے کا انداز بہت خوبصورت تھا – وہ ایک انتہائی خود اعتماد عورت تھی-   

اور آپ کے ہیسبینڈ؟“ —-”انکی ڈیٹھ ہو گئی ہے -“  مجھے لگا کہ یہ جواب آئے گا”

لیکن دوسری طرف خاموشی چھا گئی-  اُسکے چہرے پر ایک رنگ سا اُبھرا  

میں نے اور ”عمر“ نے زندگی کے سات سال بہت آئیڈیل گزارے- اُس نے بات شروع کی- ”سات سال زندگی کے بہترین سال تھے- اگلے چار سال ہم دونوں ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے رہتے تھے“- اب وہ مسلسل مجھ سے بات کر رہی تھی

پھر میں نے ایک دن سو چا کہ مجھے اب اُس سے الگ ہو جانا چا ہیے-یہ روز روز کے ڈرامے، بچے الگ پریشان

لیکن کیوں؟“ میں نے انکی بات درمیان سے کاٹ کر وجہ پوچھی”

کیوں؟“ اُس نے سرگوشی کے انداز میں اپنے لب ہلاۓ”

“وہ مجھے دھوکہ دینے لگ گیا تھا ”

 وہ ایسا نہیں تھا- اُسکی عجیب سی کمپنی نے اس کو وہ  ”عمر“ ہی نہیں رہنے دیا – جسں ”عمر“ سے میں نے شادی کی تھی 

 اس عورت کے چہرے کے رنگ گہرے ہوتے جا رہے تھے

  “وہ کہتا تھا کہ دنیا میں سب لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں” 

لیکن میرے لیے زندگی گزارنے کا مطلب ”خلوص“ تھا،”پیورٹی“ تھا، ”عزت و محبت“ تھا، ”اعتبار“ تھا- وہ بہت ٹہر ٹہر کر بات کر رہی تھی

دھوکہ ، ”جھوٹ “، ”فریب “ نہیں تھا- ” بلف“ نہیں تھاـ  اسکی آواز ،میں لرزش  تھوڑی دیر کے لیے محسوس ہوئی

میرے لیے ”زندگی“ ،” رشتے“  ، اور ”محبت “  کا پیمانہ ، ” خلوص“ کے اُس درجے پر تھا جو آج تک مجھے ہی نہیں سمجھ آ سکا 

میرے پیمانے کا گراف بہت اُونچا تھا- ”بہت اونچا ،بہت اونچا-“ اس نے پھر سرگوشی کے انداز میں لب ہلائے شاید   

بسں — ا ور پھر میں نے اپنے راستے اُس سے جدا کر لیے

کیوں کہ، جب ” رشتے“ میں خلوص نہ ہو تو وہ ”رشتہ“ ایک “بوجھ“ ہوتا ہے-“اور ساری زندگی آپ ” بوجھ“  اٹھا کر چلتے ہو تو تھک جاتے ہو

اس بات کے بعد وہ اپنی گرین ٹی کی طرف متوجہ ہو گئی- اور گھونٹ گھونٹ کے ساتھ خلا میں تانے بانے بننے لگ گئی-جیسے کسی پرانی سوچ میں کھو گئی ہو 

میں یک ٹک صرف اُس کی طرف دیکھ رہی تھی- میری زبان کو تالا لگ گیا تھا-میں یہ سوچ رہی تھی کہ یہ کون سے سیّارے سے تشریف لائی ہیں؟  ؛ اور یہ کیسی باتیں کر رہی ہی”خلوص“ ،اعتبار

اس ہوٹل میں ہزاروں کپلیز آتے ہیں، کچھ ڈیٹس پر ہوتے ہیں-کچھ میاں بیوی ہوتے ہیں-کچھ نیولی میرڈ کپلز ہوتے ہیں-کچھ ایسے ہوتے ہیں جو صرف لائف کی پلاننگز کر رہے ہوتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو صرف ٹائم پاس کر رہے ہوتے ہیں

اور یہ ” خلوص و اعتبار“ کی باتیں کر رہی ہیں

مجھے بچپن سے خلاء میں جانے کا شوق تھا کہ میں بھی دیکھوں کہ “خلائی مخلوق ” کیسی ہوتی ہے- کیا وہ ہماری طرح کی دکھائی دیتی ہے؟کیا وہ ہماری طرح  ہی سوچتی ہے؟ 

لیکن آج میرے سامنے جو عورت بیٹھی ہوئی تھی-اس ٹائم مجھے وہ ”خلائی مخلوق“ سے کم نہیں لگ رہی تھی

سَحر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may have missed