October 24, 2020

“تقاضہ”

Charcha for Urdu literature

urdu

“تقاضہ”

،یہ وقت کا ہی تقاضہ تھا کہ اُسے جانے دیتے

یک طرفہ محبت کو  

کب تک ناتواں کاندھوں پر اُٹھا کر رکھتے ؟ 

وہ اپنا ہو کر بھی اپنا ہو نہیں سکتا تھا

  تو

کب تک اُس کو اپنائیت کا احساس دلاتے رہتے؟

ہمارا شمار اُس کی منزلوں میں تھا ہی نہیں کبھی

تو کیسے اُس کو، اُس کی منزل پر ناں جانے دیتے؟

تھک گئے تھے جھوٹ نبھاتے نبھاتے

کب تک رنگین سرابوں میں جھولتے رہتے؟

اک بار ہی کھل کر ماتم کر لیا اُس بے وفا کا 

 کب تک رونے کے بہانے ڈھونڈتے رہتے؟ 

سَحر   

1 thought on ““تقاضہ”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may have missed