November 14, 2020

زندہ قبر“ روح سے روح کا رشتہ”

Charcha for Breathtaking Urdu Stories

آپ کا ایک غلط فیصلہ جہاں آپ سے جڑے ہر رشتے کو دکھ دیتا ہے، وہیں آپ خود ا تنا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں کہ آپ خود دوبارہ سے کوئی فیصلہ لینے کےقابل نہیں رہتے- آپ  کے اعتماد کا جو آئینہ آپکی آنکھوں کے سامنے کرِچی کرِچی ہوتا ہے، اُس آئینے کو دوبارہ جُڑنے میں صدیاں لگ جاتی ہیں اور آخر کار آپکو، اُس ٹوٹے آئینہ کو اپنی زندگی سے نکال باہر کرنا پڑتا ہے-لیکن تب بھی دل کو ٹھنڈک نہیں ملتی، روح بے چین رہتی ہے- اُس اعتماد کو بحال کرتے کرتے آپ طویل مسافتوں کے سفر پر روانہ ہو جاتے ہیں جہاں سے واپسی نا ممکن ہو تی ہے

-میں بھی ایسی ہی مسافتوں کے شہ زور گھوڑے پر سوار ہوں جہاں سے اب واپسی نا ممکن ہے

آج پھر سے سوچوں کا بھوت اُس کے سر پر سوار ہو گیا تھا اور جب ایسا ہوتا تھا، اس کو خود سے باتیں کرنے کی بیماری لگ جاتی تھی- پھر اس کا علاج اُس نے خود ہی ڈھونڈ لیا تھا- جب بھی اِس بیماری کا اٹیک آتا وہ دور دراز لمبے روٹ پرگاڑی گھما لیتی- آج بھی وہ نا معلوم روٹ پر  تھی جب اسکے موبائل پر ر ِنگ ہوئی- اسکے چہرے کا تناؤ کچھ کم ہوا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ موبائل پر کون ہو سکتا ہے

شہروز سے ملاقات ایک پراجیکٹ کے سلسلے میں ہوئی- شہروز ایک ذہین اور کمپنی میں ایک اچھی پوسٹ پرتھا

دوران پراجیکٹ سارہ نے محسوس کر لیا تھا کہ شہروز اُ س میں دلچسپی لے رہا ہے ،لیکن سارہ کا رویہ ہی ایسا ہوتا تھا کہ شہروز کو جھجھک ہی رہی اور پھر ایک دن سارہ نے وضاحت کے ساتھ اس کو بتایا کہ مجھے روح سے روح کے رشتے پر یقین ہے

روح سے روح کا رشتہ؟ شہروز کے چہرے پر ایک سوال تھا- ” یہ کیا بلا ہے،یار۔۔کیا فلسفہ ہے“؟  “وہ اُسکی طرف دیکھ کر بو لا-سارہ کو اُس کا انداز عجیب سا لگا 

ہاں ”روح کا رشتہ“ ، مجھے ایسے رشتے پر یقین ہے– سارہ  نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر جواب دیا

یہ کہہ کر وہ آفس سے نکل گئی-شہروز نے محسوس کیا کہ سارہ نے کچھ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا اور گاڑی کی چابی  بیگ سے نکالی اور بلڈنگ سے ہی باہر نکل گئی- شہروز کو لگا کہ شاید سارہ واپس آ جائے گی لیکن  ہمیشہ کی طرح سارہ کا کوئی اتا پتا نہیں تھا

اُس ایک گھنٹے میں ، اپنے آپ کو کوُس کر سارہ کو بہت  سکون ملتا- سمجھ نہیں آتی تھی کہ اپنے کونسے جذبے کو  سلا کر واپس آ جاتی تھی- سالوں سے یہ ہی روٹین تھی- اس نے اپنے آپکو بہت مصروف کر لیا تھا-  ایک منٹ بھی  اس نے اپنے آپ کو سوچنے کے لیے نہیں دیا تھا- لیکن جب، یہ بھو ت آتا تو، ایک گھنٹہ اپنے آپ سے باتیں کر کے اس کا یہ بھوت پھر سال، چھے مہینے کے لیے لمبی تان کر سو جاتا تھا-

موبائل پر مسلسل بیل سے تنگ آکر سا رہ نے کال اٹینٹد کر لی

سارہ آپ وا پس آ رہی ہو؟ شہروز نے آج سوچ لیا تھا کہ اس کو اپنے رشتے سے منسوب کرنے کے لیے قائل کر لے گا

نہیں، میں آج واپس نہیں آ رہی- مجھےکچھ کام ہے– سارہ نے دو ٹوک الفاظ میں جواب دیا

مجھے کچھ نہیں سننا – آج شہروز بھی ضد پر آ گیا تھا

تم اس وقت کہاں ہو؟ میں وہاں آ رہا ہوں– شہروز نے اسی سختی سے جواب دیا

سارہ نے جھنجھلا کر شہروز کی کال کاٹ دی- اسی بحث میں شہروز نے اُس کی موبائل کی لوکیشن کے لیے یاسر کو کال ملا دی تھی-لوکیشن ایک پوشں ایرئیے کی ایک مین  روڈ کی آئی-شہروز نے گا ڑی نکالی اُس کا سر غصے سے پھٹا جا رہا تھا کہ میں پریشان ہوں اور یہ میڈم اُدھر کیا کر رہی ہیں- اُ س لوکیشن کے مطابق کچھ دیر میں وہ ایک قبرستان کے باہر کھڑا تھا- اُس نے حیرت زدہ ہو کر  دوبارہ سے موبائل کی طر ف دیکھا- وہ معلومات کے مطابق  درست جگہ آیا تھا اور سارہ کی گاڑی قبرستان کی پارکنگ میں کھڑی تھی-جیسے ہی وہ قبرستان میں داخل ہوا، کچھ دور ایک قبر کے پاس سارہ بیٹھی نظر آ گئی-شہروز اس کے سا تھ ہی بیٹھ گیا

تم آج نہ بھی آتے تو ایک دن میں نے تم کو بلا لینا تھا– سارہ نے کوئی بھی حیرت کا مظاہرہ کیے بغیر اُس کو دیکھ کر بولا- شہروز کو ایک زور کا جھٹکا لگا  کہ یہ جگہ کوئی دعوت دینے والی ہے

روح سے روح کا کیا رشتہ ہے؟  یہ ا یک ایسا راز  ہے، ایک ایسا سوال ہے جو آج تک میں کسی کو بھی نہیں سمجھا سکی– سارہ نے آہستہ سے بو لنا شروع کیا-

میرا ماننا یہ ہے کہ؛ یہ وہ رشتہ ہے جو” روح کی پاکی سے ہے”۔ جو صرف “روح کے خلوص “سے ہے- جو ایک اچھی روح سے دوسری اچھی روح کے ملنے سے متعلق ہے-جیسے ایک بچہ اندر باہر سے ایک جیسا ہوتا ہے- جب وہ ناراض ہوتا ہے،تو روتا ہے اور جب وہ خوش ہوتا ہے تو قہقحے مارتا ہے-جب غصہ ہوتا ہے تو بات دل میں نہیں رکھتا-اُس کو نفرت نہیں  بننے دیتا- پاک دل رکھتا ہے- پا ک سوچ رکھتا ہے

یہ رشتہ ظاہری خوبصورتی سے متعلق نہیں ہے- جسم، چہرے کی خوبصورتی“، دولت کے لالچ“ سے منسلک نہیں- یہ ہر قسم کے لالچ“،دولت“، ہو س“ سے پاک ہے 

اعتبار، محبت جیسے جذبے میرے لیے صرف الفاظ کا درجہ رکھتے ہیں- زندگی کا فیصلہ بہت پہلے کبھی اِن دونوں الفاظ پر کیا اور ان دونوں الفاظ نے وہاں سے وار کیا جہاں سے مجھے امید بھی نہیں تھی- دھوکے ، سازشیں،  اورسیاست جیسے کھیل نےاعتبار اور محبت جیسے   خوبصورت جذبوں کو دُھول میں اڑا دیا- اور وہ دُھول  میرے اپنے ہی سر پر آ گری اور پھر اُس کے بعد ان دونوں الفاظ پر یقین ہی نہیں کیا گیا 

سارہ اب مسلسل بول رہی تھی

زندگی میں، بہت سے ایسے لوگ بھی آئے جن پر دل نے کہا کہ اعتبار کر لو- سب لوگ ایک جیسے بھی نہیں ہوتے، عمر کے ایسے حصے میں جہاں مجھے سہارے کی بھی ضرورت  تھی،تب بھی دل قائل نہ ہو سکا تو بس پھر میں نے سمجھ لیا کہ سارہ تم زندہ تو ہہ لیکن اس گو شت کے جسم میں صرف روح ہی باقی ہے

یہ ہے وہ میری زندہ قبر- اُس نے ہاتھ  کے اشارے سے قبر کی طرف اشارہ کیا

اس قبر میں، میں نے اپنے سب جذبوں کو اپنے جسم کے ساتھ دفنا دیا ہے، اور میں بس صرف روح کے ساتھ چل رہی ہوں– سارہ ایسے بات کر رہی تھی جیسے کہ اِس کے ساتھ شہروز اُدھر موجود نہ ہو

شہروز کو اُس ٹائم سارہ واقعی کسی روح سے کم نہیں لگ رہی تھی- نر ِی دوپہر میں ایک لڑکی تن تنہا ایک خالی قبر کے سامنے بیٹھی ایسے با ت کر رہی تھی کہ جیسے سارا قبرستان  صرف اس کو سن رہا ہو

وہ بے خبر، بغیر رکے بولے جا رہی تھی

شہروز کو سارہ اپنے حواسوں میں ہی دکھائی نہیں دے رہی تھی

اب سمجھ آیا  روح سے روح کا رشتہ؟ اچانک سے وہ اُس کی طر ف پلٹی

میرے لیے اب بہت مشکل ہے کہ میں دوبارہ سے کوئی رشتہ جوڑوں، میر ے لیے روح کا رشتہ سمجھنا اور نبھانا اہم ہے-میں جسمانی رشتے کے بجائے ،روح کے رشتے کو فوقیت دیتی ہوں جس میں صرف پاکی ہو– وہ دوبارہ سے مخاطب ہوئی

پھر سارہ نے شہروز کو اپنے پاس سے اُٹھتے دیکھا اور اُس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ نمودار ہوئی

سارہ کو پہلے سے ہی معلوم تھا کہ شہروز کو بھی سارہ کی روح  کے متعلق فلاسفی کچھ اچھی نہیں لگے گی-آج کل کے دور میں کون ایسا سوچتا ہے؟ کوئی بھی نہیں

سَحر

1 thought on “زندہ قبر“ روح سے روح کا رشتہ”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *